بغیر رقص کیے خاک کو اڑاتا گیا ۔۔۔ از احمد رضا

نوجوان شاعر احمد رضا کی ایک شاندار غزل بغیر رقص کیے خاک کو اڑاتا گیا

Mar 21, 2021 - 19:25
Mar 21, 2021 - 19:29
بغیر رقص کیے خاک کو اڑاتا گیا ۔۔۔ از احمد رضا
بغیر رقص کیے خاک کو اڑاتا گیا
قین طاق میں رکھ کر گماں نبھاتا گیا
یہ شاہکار بلاتا تھا رات دن مجھ کو
یہ بننا چاہتا تھا خود, سو میں بناتا گیا
وہ شہرِ حسن تھا سو واں سے جب گزر تھا مرا
جھکا کے آنکھیں ندامت سے منہ چھپاتا گیا
جو غم ملے تھے مجھے وہ تو میرے تھے ہی نہیں
یہ میرا ظرف تھا چپ چاپ بوجھ اٹھاتا گیا
حریمِ احمدِ مرسل تھا دور مجھ سے بہت
درود پڑھتا گیا, فاصلہ مٹاتا گیا
شاعر: احمد رضا

like

dislike

love

funny

angry

sad

wow